اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق یہ بات طالبان کی قید سے 40 دن بعد رہائی پانے والے دو سکھوں میں سے ایک 17 سالہ گرویندر سنگھ نے پشاور میں بتائی۔گرویندر سنگھ نے دعویٰ کیا کہ تمام طالبان پیسہ چاہتے تھے، یہ مذہبی لوگ نہیں تھے، ہم نے کسی کو بھی ایک مرتبہ بھی نماز پڑھتے ہوئے نہیں دیکھا۔ انہوں نے کہا کہ انہیں 40 روز تک رات کے وقت زنجیر سے باندھ کر رکھا جاتا اور دوپہر میں کھول دیا جاتا، کھانے کو صرف روٹی اور چائے دی جاتی اور مارا جاتا، ہمارے بال بھی کاٹ دیئے گئے۔
اغوا کاروں نے ہم سے ہمارے گھر والوں کے فون نمبر لے لئے تھے جس کے بعد ہمیں معلوم ہوا کہ ہم تاوان کیلئے اغواء کرلئے گئے ہیں، ہماری رہائی کیلئے 50 ملین روپے مانگے گئے جو بعد میں 20 ملین روپے کردیئے گئے۔ انہوں نے کہا کہ ہر روز ہمارے خاندان سے رابطے سے پہلے ہمیں بری طرح مارا پیٹا جاتا تھا تاکہ ہمارے گھر والے ہماری تکلیف سن کر تاوان دے دیں۔ تین ہفتے بعد اغواکاروں نے الٹی میٹم دیا کہ اگر تاوان کی رقم ادا نہیں کی گئی تو ایک کو قتل کردیا جائے گا۔ گرویندر سنگھ کو ان کے ساتھی جسپال اور سرجیت کے ساتھ اغوا کرلیا گیا تھا۔
152/